Tag » Karl Marx

We should not say that one man’s hour is worth another man’s hour, but rather that one man during an hour is worth just as much as another man during an hour. 20 altre parole

Karl Marx

論述|悲劇或麻痺

缺乏理論的行動無比危險,
巴黎公社中,
無產階級站了起來,
之後呢?

從此全世界向右,
我們沒有社會。

關於科普寫作,尤其是在社會科學。就算自然科學中,典範也無法免讓隨著時間的變動,

尤其是避免用點閱次數作為衡水文章優劣之指標,追求老媀能解,入口即化的結果,就會如同 nytimes,有「keyword」就有回應(口水戰)的保證,什麽也沒有改變,只是殺死了時間,相對的各種可能。

無力回覆「全文</a>」,
最後,
正反並陳,
多數人無力理解。

[敘事]

تبدیلی |عبدالحمید

تبدیلی |عبدالحمید 

   فلسفہ دانوں نے آج تک دنیا کی تعبیر کی ہے جبکہ اصل کام اِسے تبدیل کرنے کا تھا۔کارل مارکس 

کارل مارکس ایک ایسا فلسفی تھا جس نے نہ صرف اقتصادیات کے متعلق اپنا نظریہ پیش کیا بلکہ اسی نظریہ کے ذریعے تمام، سماجی، و معاشرتی مسائل کو حل کر نے کا راستہ بھی بتایا۔یعنی مارکس نے نہ صرف فلسفہ کے نقطہ نگاہ سے تعبیر کی بلکہ اِسے تبدیل کرنے کا نسخہ بھی بتایا جو سائنس کے عین اصولوں کے مطابق تھا۔ کارل مارکس کے مطابق انسان کی سماجی حیثیت اس کی انفرادی حیثیت سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ اور ایک سماج میں موجود تمام چیزیں چاہے وہ مذہب ہو یا سیاست، سماجی رشتے ہو یا لین دین، طرز معاشرت ہو یا ثقافت، ہر شے کا تعلق اس معاشرے میں موجود معاشی رشتوں سے ہوتا ہے۔ لہذہٰ معاشی رشتوں کو بدلے بغیر سماجی ، سیاسی اور دوسرے جہتوں میں کوئی تبدیلی لانا عین غیر ممکن ہے۔ اور اگر ایسی تبدیلی آجاتی ہے تو وہ سطحی اور غیر فعال تبدیلی ہوگی۔ کارل مارکس کے مطابق یہ تبدیلی غیر شعوری طور ممکن نہیں۔  یعنی یہ نہیں ہو سکتا کہ کسی معاشرے میں موجود خرابیاں وقت کے ساتھ ساتھ خود سے درست ہو جائیں بلکہ اِس تبدیلی کو لانا پڑے گا اور ایسے ہی شعوری جدوجہد کے حاصل کو انقلاب کا نام دیا گیا۔ چی گویرا نے کہا تھا کہ انقلاب ایسا پھل نہیں ہے کہ جو خود پک کر گرے گا بلکہ ہمیں مل کر اس کو گرا کر حاصل کر نا پڑے گا۔ لہذہٰ انقلاب کےلئے شعوری جدوجہد ضروری ہے۔ سادہ الفاظ میں معاشرے کو ہموار اور خرابیوں سے پاک کرنے کے ارادے سے معاشرے میں ذرائع کا منصفانہ تقسیم کیا جائے۔ مغربی تہذیب سے ازادی کا جو مفہوم ہمیں ملا ہے وہ یہ ہے کہ معاشرے کو کھُلا چھوڑا جائے جو نظام سے فائدہ میں ہو وہ فائدہ میں رہے اور جو نقصان میں ہو وہ نقصان میں رہے۔ اور اِس مفہوم کے مطابق اِن میں برابری کی کوشش انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔لہذہٰ جو ہے اُس کو حالات پر چھوڑ دینا چاہیے۔

کچھ مفکرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ شعور جسم اور مادے سے ماورا اور کوئی روحانی شے ہے لہذہٰ شعور کو جسم پر فوقیت دیتے ہیں اور کچھ مفکرین کا خیال ہے کہ جو دنیا کی مادی حیثیت کو تسلیم کرتے ہیں اور شعورکی فعالیت کو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اور کچھ بیچ کے راستے پر کھڑے ہیں ۔ کارل مارکس زہین کو تاریخی و ارتقائی پس منظر میں دیکھتا ہے یعنی مارکس کے خیال میں مادے کے وجود کے بعد ہی شعور کی ارتقا ہوئی اور شعور کی موجودہ سطح پر پہنچا۔ لہذہٰ کارل مارکس کے مطابق شعور کی ایک فعال انفرادی و اجتماعی وجود ہے لیکن شعور کو مادیت ہی ترتیب دیتی ہے۔ جیسے فیورخ باخ نے بھی کہا تھا ‘محل کے انسان اور چھونپڑی کے انسان کی سوچ ایک جیسی نہیں ہو سکتی’۔ المختصر یہ کہ مادی حیثیت ہی کسی بھی انفرادی اور اجتماعی شعور کو ترتیب دیتا ہے۔

اکثر فلسفی جو شعور کو جسم پر برتری دیتے ہیں کا خیال ہے کہ شعور چونکہ جسم سے بر تر ہے لہذہٰ شعور کی تبدیلی ہی سے معاشرے کے لئے مفید تبدیلی خود بخود پیدا ہو جاتی ہیں اور معاشرہ کو بے لگام چھوڑ دینا چاہیے جس کو مغرب میں ازادی کا نام دیا جاتا ہے۔اس کے بر عکس کارل مارکس کا خیال ہے کہ شعور چونکہ ارتقائی عمل کا حصہ ہے اور کسی بھی فرد یا معاشرے کے مادی حالت یا جسم سے ماورا نہیں ہے اس لئے مادیت شعوریت کی ترتیب میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مثلا ایک غلام کو اپنی ازادی کا ادراک نہیں ہوتا یا شعور نہیں ہوتا جب تک کہ اس کو کسی ازادی کے ذاتی تجربہ سے گزرنے کا موقع نہ ملے۔ چونکہ وہ اپنی کفالت کے لئے مالک پر منحصر ہے لہذہٰ اُس کے شعور کے مطابق ازادی کی کوئی معانی نہیں۔ ازادی کا ادراک اس وقت ہو سکتا ہے اسی طرح ایک معاشرے کے اندر بھی اجتماعی شعور کو اس معاشرے کے مادی حالت ہی ترتیب دیتی ہے۔اور مادی حالت کے تبدیلی سے شعور کی تبدیلی ہوسکتی ہے۔ بقول لینن آزادی سے مراد قوانین کو جاننا ہی نہیں بلکہ شعوری طور پر اسے بدلنا ہے۔

لہذہٰ یہ بات واضح ہو گئی کہ معاشرتی تبدیلی کے لئے مفکرین دو رائے کے درمیان بٹے ہوئے ہیں کہ ایک گروہ کا خیال ہے کہ چونکہ شعور مادیت سے بر تر ہے تو شعور میں اضافہ کے ساتھ ساتھ معاشرہ میں تبدیلی اجاتی ہے لہذہٰ معاشرے میں شعوری یا ادادی طور پر کوئی تبدیلی کرنے کی ضرورت نہیں سماج ، معاشرت، تجارت اور معیشت سمیت تمام امور شعور کی ترقی سے ساتھ تبدیل ہوتی ہے اور بہتر ہوتی جاتی ہے اور کسی قسم کی قدغن سے یہ تبدیلی متاثر ہوتی ہے دوسرے اصطلاح میں اس کو ازادی بھی کہا جاتا ہے جس کی اج مغرب علمبردار ہے۔ کسی بھی قسم کی شعوری یا ارادی تبدیلی کو ازادی کے خلاف جانتی ہے۔ اس کے بر عکس کارل مارکس کا خیال ہے کہ چونکہ سماجی اور معاشرتی رشتوں کا دارومدار معاشی رشتوں پر ہوتا ہے لہذہٰ سماجی اور معاشرتی تبدیلی کے لئے ضروری ہے کہ معاشی رشتوں کو تبدیل کیا جائے۔ کیونکہ ازادی کا نام نہ صرف رشتوں کو سمجھنا ہے بلکہ اس کو تبدیل کرنا بھی ہے۔

گلگت بلتستان کی اپنی بدلتی ہوئی سیاسی، سماجی و معاشرتی تاریخ کارل مارکس کی اس بات پر گواہ ہے۔ تین دہائی قبل یہاں کے معاشی رشتے اج کے رشتوں سے یکسر مختلف تھے کھیتی باڑی اور مویشی سے گزارہ کیا کرتے تھے۔ پہلے لوگ مل جل کر رہتے تھے جینے اور زندگی کے لوازمات کے لئے لوگوں کو ایک دوسرے کی ضرورت تھی۔ چنانچہ لوگوں میں سماجی رشتہ مضبوط اور مستحکم تھا، برداشت تھی،ثقافت کی طرف رجحان ذیادہ تھا۔

موسیقی اور مقامی رقص سماجی پہلو ایک اہم حصہ تھیں۔ تین دہائی بعد کے مختصر عرصے میں جب معاشی تبدیلی ائی، سرکاری اور نجی نوکریوں کی طرف رجحان بڑھا جس سے معاشی رشتوں میں ذبردست قسم کی تبدیلی ائی۔ اج ہم سب انفرادیت کا شکار ہیں، معاشرے میں، عدم برداشت، افراتفری، بددیانتی ، غربت اور طبقے تیزی سے فروغ پارہے ہیں۔ یعنی ایک معاشی ذرائع کو بدلنے سے ہمارا سارے کا سارا معاشرت ، سماجی رشتے، مذہبی لگاؤ،اور ثقافتی رشتے سمیت ہر شے میں تبدیلی اگئی۔ یوں کارل مارکس کا نظریہ صحیح ثابت ہوتا ہے کہ معاشی نظام ہی تمام نظاموں کی بنیاد ہے اور اس میں تبدیلی سے زندگی کے تمام شعبہ جات میں تبدیلی اجاتی ہے۔

تاہم ہماری مغرب سے درامد شدہ اقدار کے مطابق معاشرے کی معاشی نظام میں تبدیلی ازادی کے تصور کے خلاف ہے اور اِن کا دعویٰ ہے کہ شعور میں بہتری سے ہی معاشرہ تبدیل ہو جاتا ہے اور عمدہ اتبدیلی کی ضرورت نہیں۔ حالانکہ ہم نظر ڈالیں کو شعور کی اعلیٰ حدوں کو چھونے کے بعد بھی مغرب ایک استعماری قوت ہے جو امریکہ کی سربراہی میں تیسری دنیا کے ممالک پر اپنا معاشی اور دفاعی استعمار جمائے ہوئے ہے۔ بہت سے قومیں ایسی ہیں کہ جنکا تعلمی معیار بہت اچھا ہونے کے باوجود یعنی شعور میں اعلٰی و ارفع مقام کے باوجود، وہ تیسری دنیا کے سمجھے جاتے ہیں یا خود امریکہ جو دنیا کے مہنگے ترین ممالک میں شامل ہیں۔ جہاں سماجی رشتے، خاندانی نظام، اور معاشی زندگی بر باد ہو چکی ہے۔ بے روزگاری بہت بڑھ چکی ہے، نسلی امتیاز اپنے عروج پر ہے، مسلمانوں کے خلاف مذہبی منافرت سیاست کے میدانوں تک اچکی ہے پورا معاشرہ امیر اور غریب طبقہ میں بٹ چکا ہے۔ ہاں اگر اس ‘با شعور’ معاشرے میں کوئی سکون میں ہے تو وہ ملک کے بڑے بڑے سرمایہ دار ہیں جو ملٹی نیشنل کمپنیز کے مالک ہیں اور جن کی جڑیں کئی ملکوں سے زیادہ گہری اور مضبوط ہیں۔

کالم نگار ایک سماجی کارکن ہیں جو مختلف موضوع پر لکھتے ہیں۔

Gilgit Baltistan

China state media promote rap song praising Karl Marx

BEIJING (AP) — The latest hot topic for Chinese rappers is a bearded 19th century German philosopher who wrote a book called “The Communist Manifesto.” 366 altre parole

Music

"THE OPIATE OF THE MASSES" - KARL MARX

Karl Marx was politically left wing thinking. Karl developed the idea of left wing political thinking to a deeper model. Thinking is either left or right just as we have two hemispheres to our brain. 1.280 altre parole

Religion

Anarchist Ideas Of The Future

Anarchism is usually used by people who feel like they are really edgy calling for abolishing the government. However, anarchism is a rich and varied political philosophy, comprising many branches and schools of thought. 1.438 altre parole

Politics

Το ιδρυτικό Συνέδριο του Σοσιαλιστικού Εργατικού Κόμματος της Γερμανίας και η «Κριτική του Προγράμματος της Γκότα»

Σαν σήμερα στις 23 Μάη του 1875 ξεκίνησε τις εργασίες του στην Γκότα το ιδρυτικό Συνέδριο του Σοσιαλιστικού Εργατικού Κόμματος της Γερμανίας (23-26/5/1875). Το κόμμα αυτό προήλθε από την ενοποίηση του Σοσιαλιστικού Εργατικού Κόμματος Γερμανίας, με ηγέτες τον … 7 altre parole

ιστορία